زین شکیل — شاعر کی تصویر

مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں — زین شکیل

شاعر

تعارف شاعری

مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں

مسلسل ہی بھلایا جا رہا ہوں
میں لکھ لکھ کر مٹایا جا رہا ہوں
مجھے سننے پہ جو راضی نہیں ہے
اسے پھر بھی سنایا جا رہا ہوں
مجھے ہر طور ہے مٹی میں ملنا
نگاہوں سے بہایا جا رہا ہوں
محبت نے سیاست سیکھ لی ہے
سلیقے سے ستایا جا رہا ہوں
عجب ہے ہاتھ اس کا تھامنا بھی
اٹھا کر پھر گرایا جا رہا ہوں
جہاں پر امتحاں بنتا نہیں ہے
وہیں پر آزمایا جا رہا ہوں
مجھے کیا گیت سمجھی ،زین، دنیا؟
جو اتنا گنگنایا جا رہا ہوں

Musalsal hi bhulaya ja raha hoon

Musalsal hi bhulaya ja raha hoon
Mein likh likh kar mitaya ja raha hoon
Mujhe sunne pe jo raazi nahin hai
Use phir bhi sunaya ja raha hoon
Mujhe har taur hai mitti mein milna
Nigahon se bahaya ja raha hoon
Mohabbat ne siyasat seekh li hai
Saleeqe se sataya ja raha hoon
Ajab hai haath us ka thaamna bhi
Utha kar phir giraya ja raha hoon
Jahan par imtihan banta nahin hai
Wahin par aazmaya ja raha hoon
Mujhe kya geet samjhi, Zain, duniya?
Jo itna gungunaya ja raha hoon

شاعر کے بارے میں

زین شکیل

زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پن...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام