سبھی موسم ہمارے ہیں چلے آؤ
ملن کے استعارے ہیں چلے آؤ
ہمیں شکوہ زمانے سے نہیں اب بھی
کہ ہم اب بھی تمہارے ہیں چلے آؤ
اداسی بین کرتی ہےتمہارے بن
کہاں اپنے گزارے ہیں چلے آؤ
مری آنکھیں بھی اب خوابوں سے خائف ہیں
خسارے ہی خسارے ہیں چلے آؤ
تمہیں ہم نے سلیقے سے بتانا ہے
تمہارے ہیں، تمہارے ہیں، چلے آؤ
sabhi mausam hamare hain chale aao
milan ke istehaare hain chale aao
hamein shikwa zamane se nahin ab bhi
ke hum ab bhi tumhare hain chale aao
udasi bain karti hai tumhare bin
kahan apne guzare hain chale aao
meri aankhen bhi ab khwabon se khaif hain
khasare hi khasare hain chale aao
tumhen hum ne saleeqe se batana hai
tumhare hain, tumhare hain, chale aao
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پن...
مکمل تعارف پڑھیں