یہیں پہ تھا میں کدھر گیا ہوں
مجھے سمیٹو بکھر گیا ہوں
غموں کی آندھی یہاں سے گزری؟
کہ میں ہوا سے گزر گیا ہوں؟
تم ابتدا لے کے آ گئے تھے
میں انتہا سے گزر گیا ہوں
تری ہی آواز آ رہی تھی
تری گلی میں ٹھہر گیا ہوں
جہاں وہ پہنچا پلک جھپکتے
میں رفتہ رفتہ اُدھر گیا ہوں
بس اُس نے دریا کی سمت دیکھا
میں ہونٹ سی کر اُتر گیا ہوں
پرانے یارو نئے سفر میں
مجھے پکارو ٹھہر گیا ہوں
گرفت محسوس ہو رہی ہے
کسی نظر سے گزر گیا ہوں
Yahin pe tha main kidhar gaya hoon
Mujhe sameto bikhar gaya hoon
Ghamon ki aandhi yahan se guzri?
Ke main hawa se guzar gaya hoon?
Tum ibtida le ke aa gaye the
Main intiha se guzar gaya hoon
Teri hi aawaz aa rahi thi
Teri gali mein thehar gaya hoon
Jahan wo pahuncha palak jhapakte
Main rafta rafta udhar gaya hoon
Bas us ne darya ki simt dekha
Main hont si kar utar gaya hoon
Purane yaaro naye safar mein
Mujhe pukaro thehar gaya hoon
Girift mahsoos ho rahi hai
Kisi nazar se guzar gaya hoon
زین شکیل 23 فروری 1992 کو جلالپور جٹاں، گجرات میں پیدا ہوئے۔ تعلیم اور پیشے کے اعتبار سے وہ سافٹ وئیر انجینیئر ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اردو اور پن...
مکمل تعارف پڑھیں