مرے شہر کےعجب یہ منظر ہیں
کہ دور تلک لہو کے سمندر ہیں
کشمکش یہ کہ گلا ہو کس سے
لکھے شاید یہی ہمارے مقدر ہیں
کون ہے حسین ان میں ،کون یزید
ہاتھوں میں ہر اک کے خنجر ہیں
نہیں تعبیرمیرے خواب کی یہ
آج اقبال بھی تو ششدر ہیں
وہ اقبال کے شاہین کو کیا ہوا
کٹے ہیں،یا پھرکمزور پر ہیں؟
رو لیتے ہیں بیھٹےدیارغیر میں قمر
لوٹتےجودیکھیں عزیزوں کےگھر ہیں
راجہ اکرام قمر
ہو گیں کب سے در بدر اکھیاں
بن ترے آج بھی ہیں تر اکھیاں
جب سے بچھڑا ہے تو صنم مجھ سے
سو نہیں پاتیں رات بھر اکھیاں
تو نے چھینآ ہے میرا صبر و قرار
ترسیں خوابوں کو رات بھر اکھیاں
جن کو چھوتی ہے روز باد صبا
پوچھیں ان سے تری خبر اکھیاں
لاکھ چاہوں کہ لوٹ جاؤں قمر
کوچ کرنے نہ دیں مگر اکھیاں
راجہ اکرام قمر
آج پھر برسا ساون اور کالی گھٹا چھائی
آج پھر دل ناتواں کو شدت سے تری یاد آئی
آج پھر تیری یادوں کے پھول مہک اٹھے
آج پھر گلشن میں روتی رہی بلبل سودائی
آج پھر تیری جدائی کے چراغ دہک اٹھے
آج پھر تیری صورت تصور میں مسکرائی
آج پھر ہونٹوں نے مرے کچھ گیت گنگاے
آج پھر روتے رہے میں اور میری تنہائی
آج پھر یاد ماضی نے آ کر چھیڑا مجھے
آج پھر نِیم بِسمِل کی ماند شب بِتائی
آج پھر بڑی شدت سے میں رویا تھا قمر
آج پھر کبھی نہ رونے کی میں نے قسم کھائی
راجہ اکرام قمر
غزل
بحر: متدارک مسدس سالم
فاعلن فاعلن فاعلن
کچھ یقیں کچھ گماں کر گیا
کیا بتاؤں کیا وہ داں کر گیا
رات بھر جاگتی آنکھ سے
خواب آنسو کا ساماں کر گیا
ہجر کی ایک لمبی گھڑی
دل کو آہستہ ویران کر گیا
بات کہتے ہی چپ ہو گیا
لفظ کویکسر بے زباں کر گیا
چھو کے گزرا جو یادوں کا درد
روح تک ایک نشاں کر گیا
میں اکیلا ہی رہ گیا آخر
وہ مگر سب پہ احساں کر گیا
ایک لمحے کی قربت کا دکھ
عمر بھر کا گماں کر گیا
پوچھتا ہے قمرؔ آج بھی دل
وہ مجھے کیوں مہرباں کر گیا
راجا اکرام قمر
ماہ ساون کے تھے وہ دن چار
کتنے حسین، خوشبو میں بسے خوشگوار
بس اچانک ہی تم
جب گھر میں میرے تھے
تکتا ہی رہا میں تمہیں
انکھوں میں میری سماے تھے
خوشی سے گنگنا رہا تھا میں
بس ادھر ادھر دوڑے جا رہا تھا میں
کیسے بھول پاؤں گا وہ دن
کیسا بچپنا تھا، کیسی سادگی
خدا سے تم کو مانگنے کے بدلے
میں نے بارش کی دعا مانگ لی
وہ دن ہے اور اج کا یہ دن
جب بھی ماہ ساون اتا ہے
جب بارش زور کی پرستی ہے
جب دل درد سے کرلاتا ہے
جب سینہ پھٹا پھٹا جاتا ہے
اک دعا ہوں قمرمیں خدا سے مانگتا
تم خوش رہو سدا، مرے کل کا کیا پتا
راجہ اکرام قمر
عکس سے عکس جو ٹکرایا ادھر پانی میں
شرم سے ڈوب گیا چاند قمر پانی میں
شبنمی دیکھ کے رخسار یقین ہونے لگا
پھول رہتا ہے بہت تازہ و تر پانی میں
رات میری تھی حسین، عالم صبح لیکن
اشک ایسے تھے رواں گویا سحر پانی میں
میرے اندر کےطلاطم کو جو دیکھا اس نے
ایک کونے میں گیا بیٹھ کہر پانی میں
منجمد ہونے لگا عالم تنہائی بھی
ڈوبتے دیکھا ہے ہاں میں نے قمر پانی میں
راجہ اکرام قمر
مجھ پہ گزرا جو سانحہ لکھوں
میں ترا سارا واقعہ لکھوں
لکھوں قربت کے جاں گزیں لمحے؟
یا وہ فرقت کا ثانیہ لکھوں
سابقہ لکھوں اپنی خوشیوں کا
یا تجھے غم کا لاحقہ لکھوں
لکھوں ملنے کے وہ حسین لمحے
یا وہ بچھڑنے کا واقعہ لکھوں
تو ہی بتا کہ کیا لکھوں قمر
میں کیسے اس کو سابقہ لکھوں
راجہ اکرام قمر
تر تھا چہرہ آنسوؤں سے
بڑے زورو کی
برسات ہو رہی تھی
وہ ساتھ نہ تھا میرے
مگر تھا بھی
حسین خیالوں میں
ملاقات ہو رہی تھی
راجہ اکرام قمر