جب سے بچھڑا ہے تو بکھر گیا ہوں
زندہ رہتے ہوئے بھی مر گیا ہوں
ڈسنے لگتی ہے مجھ کو تنہائی
میں ترے بعد جب بھی گھر گیا ہوں
ائینے سے نہ چھپ سکا مرا کرب
ائینہ دیکھتے ہی ڈر گیا ہوں
کھا گئی ہے تجھے کسی کی نظر
میں خزاؤں کا ہو شجر گیا ہوں
بہر و بر کی تمیز تجھ سے تھی
میں سرابوں میں پھر اتر گیا ہوں
ایک تیری تلاش میں اے قمر
جا بجا اور در بدر گیا
راجہ اکرام قمر
وہ عالمِ شبِ تنہائی کا سحر نے دیکھا
اکیلے بیٹھا بلبل کو شجر نے دیکھا
کچھ بدگمانیوں نے بڑھا دیں تھیں دوریاں
کچھ ایسا غرور تھا کہ نہ ہم سفر نے دیکھا
یہ داستاں پرانی ہے حسن کے دیوانے کی
کاسہ لیے جوگی کو درِ درد نے دیکھا
ترے خیال کی خوشبو مرے بدن میں رہی
یہ معجزہ بھی فقط دیدۂ تر نے دیکھا
وہ لمس جو کبھی چھو کر بھی چھو نہ پایا مجھے
اسی کو خواب کی صورت جگر نے دیکھا
کہیں سکون ملا بھی تو اک اداس سی چوٹ
ہر ایک راحت کو آخر چشمِ تر نے دیکھا
میں اپنی تنہائیوں میں بھی تنہا نہ تھا کبھی
مجھ کو ہر ایک شب مرے ساغر نے دیکھا
بلبل کے دکھ میں تو شریکِ بزم تھا قمر
مگر مری اداسی کو بس شبِ قمر نے دیکھا
راجا اکرام قمر
ذرا سوچو۔۔۔۔!
کہ سوچ کی ہوتی آواز
اور اس آواز کے الفاظ بےشمار
ان الفاظوں میں درد ہوتا
اور اس درد میں اک انجانی پکار
ذرا سوچو۔۔۔۔۔!
اس وقت وصال کی سوچ کو
اور اس بیچاری سوچ کی آہ و پکار
ان الفاظوں کا تڑپنا اور تڑپنا
اور پھر سسک کر مرنا بے اختیار
ذرا سوچو۔۔۔۔!
آنکھوں میں آنسوؤں کے سمندر کی
ابھرتی لہروں کی چیخ و پکار
یار سے بچھڑنا تو محال تھا
مگر کب تھا کسی کے اختیار
موت سے کہہ دیں گے کہ اب ناراضگی نہیں قمر
یار سے ملنے کی خاطر اب یہ زندگی بھی نہیں قمر
ذرا سوچو ۔۔۔۔۔!
ملیں گے جب ہم پھر دوبارہ
اس دنیا کے اس پار
جہاں غم نہ جدائی کا ہوگا
اور نہ دردوں کی بھرمار
نا نالے اس دل کے ہونگے
نا کوئی تیر جگر کے پار
خمار ہی خمار ہو گا ہر طرح
اور ہر چیز بس خوشگوار
روپ تیرا سوہنا ہوگا، اور خوشبو
بکھیرتی ہوئی ترے جسم کی مہکار
مجھے اس جہاں میں پانا ہے تجھے قمر
تو ہو ہی نہیں سکتا کسی اور کا طلبگار
راجہ اکرام قمر
مائے نی مائے
پھلاں دا موسم آگیا مائے
میرے ویہڑے وچ اجے وی ریہندی خزاں
ٹر گئے ہو جدوں دے چھڈ کے
دل نہ کرے کہ آواں میں اپنے گراں
جدھر وی جاواں رہن نہی دیندے
چونکے یاداں دے سین نہی دندے
ہوران دل کرے جا منجی ڈاواں
اسے پنڈ دی ٹھنڈی چھاں
رشتے بھی سارے بچھڑ گئے نے
موتی مالا دے بکھر گئے نے
اک اک کر کے جا سوتے نی
پنڈ دے اپنے جراں
آندیاں جاندیاں نے اے عیداں
یار قمر ہون تے ٹٹیاں امیداں
ہن تے بہ کے بس کلاای
میں لکھ لکھ انجوں وگااں
راجہ اکرام قمر
ماہ ساون کے تھے وہ دن چار
کتنے حسین، خوشبو میں بسے خوشگوار
بس اچانک ہی تم
جب گھر میں میرے تھے
تکتا ہی رہا میں تمہیں
انکھوں میں میری سماے تھے
خوشی سے گنگنا رہا تھا میں
بس ادھر ادھر دوڑے جا رہا تھا میں
کیسے بھول پاؤں گا وہ دن
کیسا بچپنا تھا، کیسی سادگی
خدا سے تم کو مانگنے کے بدلے
میں نے بارش کی دعا مانگ لی
وہ دن ہے اور اج کا یہ دن
جب بھی ماہ ساون اتا ہے
جب بارش زور کی پرستی ہے
جب دل درد سے کرلاتا ہے
جب سینہ پھٹا پھٹا جاتا ہے
اک دعا ہوں قمرمیں خدا سے مانگتا
تم خوش رہو سدا، مرے کل کا کیا پتا
راجہ اکرام قمر
طلب دیدار یار، لہجے میں ضرور شیریں ہوگی
ذرا سوچ گفتگو طور کس قدر حسیں ہو کے
بس اک جھلک اور ہوش و حواس کھو دینا
نور سے روشن گئی کلیم کی جبیں ہوگی
مسافت مقام یار کٹھن بھی ہو تو کیا ہے
جستجو ہو ایسی تو منزل پہاڑوں کی قریں ہوگی
کہکشاں نے سجایا رستہ پھر اک بار خاطر محبوب
عاشق و محبوب کی ملاقات یہ بھی ہوئی دل نشیں ہوگی
جو پہنچ سکے تیری اوج کو وہ پر کہاں
خیال قمر کو بھی خدا قسم ایسی سوچ نہیں ہوگی
راجہ اکرام قمر
دلکشی، انس، محبت، عقیدت اور عبادت
وادی عشق میں سب تھا مگر سکوں کے سوا
عشق کی چھٹی منزل پر پہنچے تو دیکھا
کچھ بھی نہ پایا وہاں پر جنوں کے سوا
یوں تو شہر لیلی کا ہر شخص دیوانہ تھا
پتھر کسی نے بھی نہ کھائے مگر مجنوں کے سوا
اسکے نگر سے ائے ہر شخص نے بتایا مجھے
دل نشین تھے نظارے مگر فسوں کے سوا
مرتی کبھی نہ سسی بھی عشق کے ہاتھوں
کر لیتی محبت وہ کسی سے بھی پنوں کے سوا
کچھ ہنر اس کو بھی اتا تھا گفتار حسین کا
باتیں اس کی اچھی تھی ساری مگر کوں کے سوا
اب کیسے بتاتا میں قمر اپنے حجرے کا عالم
کہ کچھ بھی نہیں ہے وہاں اتش دروں کے سوا
راجہ اکرام قمر