رند لکھنوی اردو کے کلاسیکی دبستانِ لکھنؤ کے ممتاز شاعر تھے جن کا اصل نام نواب سید محمد خاں تھا۔ وہ 1797ء میں فیض آباد، اودھ کے ایک معزز اور نوابی خانوادے میں پیدا ہوئے اور نواب بہو بیگم کی سرپرستی میں پرورش پائی، جس نے ان کی شخصیت میں شائستگی، نفاست اور تہذیبی رکھ رکھاؤ پیدا کیا۔ آسودہ ماحول اور رئیسانہ تربیت نے ان کے مزاج کو جمالیاتی ذوق، خوش سلیقگی اور رنگینی عطا کی۔ ابتدا میں وہ وفا تخلص کرتے تھے، مگر بعد میں لکھنؤ منتقل ہونے کے بعد انہوں نے معروف استاد خواجہ حیدر علی آتش کی شاگردی اختیار کی اور انہی کے مشورے سے رند تخلص اپنایا۔ ان کی ادبی تربیت میر مستحسن خلیق جیسے معتبر استاد سے بھی وابستہ رہی، جس سے ان کے کلام میں روایت اور فنی پختگی پیدا ہوئی۔
رند لکھنوی کی شاعری لکھنؤ کی تہذیب، عشق کی لطافت، زبان کی شستگی اور حسنِ بیان کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے اشعار میں عاشقانہ بانکپن، نزاکتِ احساس، محفل آرائی اور دلفریب اندازِ ادا نمایاں طور پر ملتا ہے۔ وہ ان شعرا میں تھے جنہوں نے غزل کو صرف جذباتی اظہار نہیں رہنے دیا بلکہ اسے تہذیبی شعور اور نفیس طرزِ احساس سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے نام سے کلیات اور دو دیوانوں کا ذکر ملتا ہے جن میں گل دستۂ عشق خاص طور پر معروف ہے۔ ان کے کلام میں بعض مقامات پر تصوف کی جھلک بھی نظر آتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری محض عشقیہ مضامین تک محدود نہ تھی بلکہ داخلی تجربے کی وسعت بھی رکھتی تھی۔
رند لکھنوی کی زندگی میں بعض ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جو ان کی سنجیدگی اور فن سے وابستگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ روایت ہے کہ جب انہوں نے آتش کی شاگردی اختیار کی تو اپنے سابقہ تخلص وفا کے تحت کہا گیا تمام کلام کنویں میں ڈال دیا تاکہ نئے شعری سفر کا آغاز پوری یکسوئی سے کر سکیں۔ زندگی کے آخری دور میں ان کے مزاج میں روحانی تبدیلی آئی اور وہ دنیاوی رنگینیوں سے کنارہ کش ہو گئے۔ حجاز مقدس کی زیارت کے ارادے سے سفر پر روانہ ہوئے مگر 1857ء میں بمبئی میں وفات پا گئے۔ یوں رند لکھنوی کی زندگی ایک رنگین مزاج نواب زادے سے سنجیدہ اور صاحبِ ذوق شاعر، اور پھر روحانیت کی طرف مائل انسان تک ایک مکمل داستان کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔