گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں
گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں
سب بجا کہتے ہیں جو اہلِ جہاں کہتے ہیں
رخ کو گل قد کو ترے سروِرواں کہتے ہیں
لوگ کیا کیا تجھے اے جانِ جہاں کہتے ہیں
مرضِ عشق اطبا سے نہ تشخیص ہوا
کچھ جنوں کہتے ہیں بعضے خفقاں کہتے ہیں
جو کہ خوگر ہیں تری بوئے دہن کے اے گل
غنچۂ گل کو بھی وہ گندہ دہاں کہتے ہیں
زلف و رخ کی سحروشام جو کرتے ہیں دید
گل کو انگارے وہ سنبل کو دھواں کہتے ہیں
یوں پتا پوچھیو اس حور کے گھر کا قاصد
کس کے کوچے کو گلستانِ جناں کہتے ہیں
قامتِ یار کو بتلاتے ہیں بعضے شمشاد
اکثر اس قد کو قیامت کا نشاں کہتے ہیں
جس نے دیکھا تجھے اے جان وہ جاں بر نہ ہوا
اہلِ دل تجھ کو بجا آفتِ جاں کہتے ہیں
کیوں نہ وہ طفلِ حسیں ہووے عزیزِ دل
یوسفِ وقت اسے پیرو جواں کہتے ہیں
سن کے کاٹےہیں سخن کو مرے حاسد اے رندؔ
اس لئے لوگ مجھے سیفِ زباں کہتے ہیں
رند لکھنوی