بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے
بے فکر جی رہا ہوں ہر اک اعتبار سے
نسبت بھی کیسی چیز ہے داماں یار سے
دامن رفو کروں کہ گریباں رفو کروں
جوش جنوں میں کس کو سیؤں کس کے تار سے
معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے
ہو رابطہ جبیں کو جہاں پائے یار سے
دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم پیر ہو گئے
خم ہو گئی کمر جو گناہوں کے بار سے
اے بندۂ خدا ترا ماحول کچھ بھی ہو
مایوس کیوں ہے رحمت پروردگار سے
اپنی خوشی سے ترک تمنا بھی کیا کروں
ٹکراؤ چاہتا نہیں منشائے یار سے
کاملؔ سکون موت ہے کیوں موت مانگیے
اپنی اپنا زندگی ہے دل بے قرار سے
کامل شطاری