ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے
ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے
ساحل کی خوشی میں موجوں کا طوفان اٹھانا بھول گئے
آنکھوں میں جو صورت تھی ان کی غیروں سے چھپانا بھول گئے
پھولوں کی محبت میں دامن کانٹوں سے بچانا بھول گئے
دل رکھ تو لیا وعدہ کر کے اور وعدے پہ آنا بھول گئے
یا یہ کہ محبت وہ نہ رہی یا ناز اٹھانا بھول گئے
بیتابیٔ دل کے ہاتھوں سے توہین محبت ہو نہ سکی
اچھا بھی ہوا جب وہ آئے ہم حال سنانا بھول گئے
جب چاہنے والے ختم ہوئے اس وقت انہیں احساس ہوا
اب یاد میں ان کی روتے ہیں ہنس ہنس کے رلانا بھول گئے
جینا ہے ترے ہی قدموں میں مرنا ہے ترے ہی قدموں میں
کیا خوب ہوا ہم در سے ترے سر اپنا اٹھانا بھول گئے
کیوں نیچی نگاہوں سے مجھ کو پیمانہ دکھا کر ہنستے ہو
آنکھیں تو ملا کر بات کرو نظروں سے پلانا بھول گئے
یا تو نے نظر خیرہ کر دی اے برق تجلی یا ہم ہی
دیدار میں اپنی آنکھوں کا احسان اٹھانا بھول گئے
خود آپ نے اپنے کاملؔ کو دیوانہ بنا کر چھوڑا ہے
اب ہوش اڑے کیوں جاتے ہیں کیا ہوش اڑانا بھول گئے
کامل شطاری