کامل شطاری اردو کے معروف صوفی شاعر، نعت گو اور غزل نگار تھے جن کا اصل نام شیخین احمد حسینی تھا۔ وہ 1905ء میں حیدرآباد دکن کے تاریخی علاقے دبیرپورہ میں واقع آستانہ شطاریہ میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک ایسے علمی و روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے جس کی نسبت ساداتِ حسینی اور مشائخِ شطاریہ سے تھی۔ یہی خاندانی ماحول ان کی شخصیت سازی میں بنیادی عنصر ثابت ہوا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، پھر عربی، فارسی، منطق، فلسفہ اور دینی علوم میں نامور اساتذہ سے کسبِ فیض کیا، جن میں دیدار احمد، مولانا عبدالقادر صدیقی حسرت حیدرآبادی، مولانا عبدالواسع اور مولانا سید عبدالباقی شطاری شامل تھے۔ اس وسیع علمی تربیت نے ان کے فکر و فن کو گہرائی اور وقار عطا کیا۔
کامل شطاری کی شاعری میں تصوف، عشقِ رسول ﷺ، اولیائے کرام سے عقیدت، اخلاقی تطہیر اور انسانی محبت کے مضامین نمایاں ہیں۔ وہ محض رسمی شاعر نہ تھے بلکہ ان کا کلام روحانی واردات اور وجدانی کیفیت کا آئینہ دار ہے۔ دکن کی تہذیبی لطافت، کلاسیکی اردو کی چاشنی اور صوفیانہ رمزیت ان کی شاعری میں حسین امتزاج کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کی مشہور نعت "آپ کو پاتا نہیں جب آپ کو پاتا ہوں میں" نے انہیں برصغیر بھر میں دوام بخشا، اور آج بھی یہ کلام عقیدت و محبت سے پڑھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی غزلیں، رباعیات، مخمسات اور منقبتیہ کلام بھی اہلِ ذوق میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
کامل شطاری نہ صرف ایک معتبر شاعر تھے بلکہ ایک دینی عالم، صاحبِ فکر بزرگ اور سلسلۂ طریقت سے وابستہ روحانی شخصیت بھی تھے۔ ان کی زندگی ادب اور تصوف کے حسین امتزاج کی مثال تھی، اسی لیے وہ خانقاہی حلقوں اور ادبی مجالس دونوں میں یکساں احترام رکھتے تھے۔ ان کا انتقال 1976ء میں حیدرآباد دکن میں ہوا، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے اور اہلِ محبت کے دلوں کو منور کرتا ہے۔ اردو نعتیہ اور صوفیانہ شاعری میں کامل شطاری کا نام ہمیشہ عزت، وقار اور عقیدت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔