اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں
اے دل تجھے خبر ہے کہ کیا کر رہا ہوں میں
جو حق ہے زندگی کا ادا کر رہا ہوں میں
تم ہو جفا نواز جفا کر رہے ہو تم
میں ہوں وفا پرست وفا کر رہا ہوں میں
تم سے تو مجھ کو کوئی شکایت نہیں رہی
قسمت کی خوبیوں کا گلہ کر رہا ہوں میں
ہاں دیجئے سزا کہ سزاوار عشق ہوں
ہاں ہاں میں کر رہا ہوں خطا کر رہا ہوں میں
وہ دن گئے کہ نغموں سے ہی کھیلتا تھا دل
اب نالہ ہائے ہوش ربا کر رہا ہوں میں
نکلا ہوں جستجو میں غم دل کے ساتھ ساتھ
رہزن کو آج راہنما کر رہا ہوں میں
اب آپ اپنی شان کرم کو دکھائیے
میری ہی خطا ہے کہ خطا کر رہا ہوں میں
شاید اسی طرح سے ملے کچھ سکون زیست
پہلو سے اپنے غم کو جدا کر رہا ہوں میں
بہزادؔ تم بھی دیکھ رہے ہو گواہ ہو
کب سے بلند دست دعا کر رہا ہوں میں
بہزاد لکھنوی