غم میں بھی مسکرا رہا ہوں میں
غم میں بھی مسکرا رہا ہوں میں
اپنا عالم دکھا رہا ہوں میں
ہچکیو جب کوئی نہیں میرا
پھر کسے یاد آ رہا ہوں میں
اس سے مجھ کو نہیں وفا کی امید
جس کو اپنا بنا رہا ہوں میں
رکھ رہا ہوں بنا نشیمن کی
بجلیوں کو بلا رہا ہوں میں
اشک غم ساتھ کیوں نہیں دیتے
دیر سے مسکرا رہا ہوں میں
اللہ اللہ میری مستئ شوق
بے پیے ڈگمگا رہا ہوں میں
اشک بہتے ہیں کچھ نہیں کہتا
یوں فسانہ سنا رہا ہوں میں
ہو جلائیں تھیں شام فرقت میں
وہی شمعیں بجھا رہا ہوں میں
یاد آتا ہی جاتا ہے بہزادؔ
وہی جس کو بھلا رہا ہوں میں
بہزاد لکھنوی