اک محقق نے انسان کو بوزنہ جب کہا
میں وہیں سجدۂ شکر میں گر گیا
اپنی کوتاہیوں، خامیوں کے لیے
آفرینش سے اب تک جو شرمندہ تھا
آج وہ بوجھ، بارے ذرا کم ہوا
Ek muhaqqiq ne insaan ko bozna jab kaha
Main wahin sajda-e-shukr mein gir gaya
Apni kotahiyon, khaamiyon ke liye
Aafreenish se ab tak jo sharminda tha
Aaj woh bojh, baare zara kam hua
اخترالایمان اردو نظم کے اُن اہم جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت کی تقلید کے بجائے فرد کی داخلی سچائی کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ ان کا ...
مکمل تعارف پڑھیں