اک دیا ، روز جگاتا ہے مُجھے
سائے کا جسم بناتا ہے مُجھے
ان کہی بات بھی سن لیتا ہوں
غیب سے بھی نظر آتا ہے مجھے
آئینوں نے بھی کہاں دیکھے ہیں
وقت جو چہرے دکھاتا ہے مُجھے
کیسا بنتا ہے وہ میرے آگے
اور پھر کیسا بناتا ہے مُجھے
اپنی تنہائی مٹانے کے لیئے
ایک ویرانہ بلاتا ہے مُجھے
Ik diya, roz jagata hai mujhe
Saye ka jism banata hai mujhe
An-kahi baat bhi sun leta hoon
Ghaib se bhi nazar aata hai mujhe
Aainon ne bhi kahan dekhe hain
Waqt jo chehre dikhata hai mujhe
Kaisa banta hai woh mere aage
Aur phir kaisa banata hai mujhe
Apni tanhai mitane ke liye
Ek veerana bulata hai mujhe
انجم سلیمی اردو اور پنجابی کے معروف معاصر شاعر، ریڈیو اینکر اور ادبی و ثقافتی کارکن ہیں۔ وہ 10 اکتوبر 1963ء کو فیصل آباد (سابقہ لائل پور) میں ایک ک...
مکمل تعارف پڑھیں