مجھے بھی سہنی پڑے گی مخالفت اپنی
جو کھل گئی کبھی مجھ پر منافقت اپنی
میں خود سے مل کے کبھی صاف صاف کہہ دوں گا
مجھے پسند نہیں ہے مداخلت اپنی
میں شرمسار ہوا اپنے آپ سے پھر بھی
قبول کی ہی نہیں میں نے معذرت اپنی
زمانے سے تو مرا کچھ گلہ نہیں بنتا
کہ مجھ سے میرا تعلق تھا معرفت اپنی
خبر نہیں ابھی دنیا کو میرے سانحے کی
سو اپنے آپ سے کرتا ہوں تعزیت اپنی
Mujhe bhi sehni padegi mukhalifat apni
Jo khul gayi kabhi mujh par munafiqat apni
Main khud se mil ke kabhi saaf saaf keh doon ga
Mujhe pasand nahin hai mudakhilat apni
Main sharmsaar hua apne aap se phir bhi
Qabool ki hi nahin main ne maazirat apni
Zamane se to mera kuch gila nahin banta
Ke mujh se mera ta'alluq tha ma'rifat apni
Khabar nahin abhi duniya ko mere saanhe ki
So apne aap se karta hoon ta'ziyat apni
انجم سلیمی اردو اور پنجابی کے معروف معاصر شاعر، ریڈیو اینکر اور ادبی و ثقافتی کارکن ہیں۔ وہ 10 اکتوبر 1963ء کو فیصل آباد (سابقہ لائل پور) میں ایک ک...
مکمل تعارف پڑھیں