تمہارے چہرے پر
صرف دو آنکھیں میری آشنا ہیں
جو مجھ سے ہم کلام رہتی ہیں
میں تمہیں اپنی تمام حسیات کی یکسوئی سے ملا ہوں
تمہارا جسم میری پوروں کے لیے اجنبی سہی
لیکن پھر بھی
تمہاری خوشبو میں لپٹا ہوا تمہارا لمس
مجھے باسی نہیں ہونے دیتا
کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں
تمہیں جی بھر کر دیکھنے سے بھی
آنکھیں بھوکی رہ جاتی ہیں!
اے میرے بے بہا!
کاش میں ہر سمت سے
ہزار آنکھوں سے تمہیں دیکھتا
لاکھوں مساموں سے تمہارے لمس چنتا
اور تمہارے دونوں ہونٹوں کو
اپنے پورے بدن سے چوم سکتا!
Tumhare chehre par
Sirf do aankhein meri aashna hain
Jo mujh se hum-kalam rehti hain
Main tumhein apni tamam hissiyat ki yaksooi se mila hoon
Tumhara jism meri pooron ke liye ajnabi sahi
Lekin phir bhi
Tumhari khushboo mein lipta hua tumhara lams
Mujhe baasi nahin hone deta
Kankhiyon se dekhte hue sochta hoon
Tumhein ji bhar kar dekhne se bhi
Aankhein bhooki reh jaati hain!
Aye mere be-baha!
Kaash main har simt se
Hazaar aankhon se tumhein dekhta
Lakhon musamon se tumhare lams chunta
Aur tumhare donon honton ko
Apne poore badan se choom sakta!
انجم سلیمی اردو اور پنجابی کے معروف معاصر شاعر، ریڈیو اینکر اور ادبی و ثقافتی کارکن ہیں۔ وہ 10 اکتوبر 1963ء کو فیصل آباد (سابقہ لائل پور) میں ایک ک...
مکمل تعارف پڑھیں