خود سے باہر بھی مجھے اپنا پتا کرنا ہے
میں نے اب سوچ لیا سب سے ملا کرنا ہے
مجھ کو جانے دے مری پہلی محبت کی طرف
میں نے اک شخص کو وعدے سے رہا کرنا ہے
جی بہت خوش ہے آج اس سے ملاقات ہوئی
کل کو جس کے لیے افسردہ ہوا کرنا ہے
اتنا بے تاب نہ ہو مجھ سے بچھڑنے کے لیے
تجھ کو آنکھوں سے نہیں دل سے جدا کرنا ہے
مجھ سے کھل پائیں اگر اپنی زباں کی گرہیں
خود سے ملنا ہے، کبھی اپنا گلہ کرنا ہے
Khud se bahar bhi mujhe apna pata karna hai
Main ne ab soch liya sab se mila karna hai
Mujh ko jaane de meri pehli mohabbat ki taraf
Main ne ik shakhs ko waade se riha karna hai
Jee bohat khush hai aaj us se mulaqat hui
Kal ko jis ke liye afsurda hua karna hai
Itna be-taab na ho mujh se bichadne ke liye
Tujhe aankhon se nahin dil se juda karna hai
Mujh se khul paayen agar apni zubaan ki girhen
Khud se milna hai, kabhi apna gila karna hai
انجم سلیمی اردو اور پنجابی کے معروف معاصر شاعر، ریڈیو اینکر اور ادبی و ثقافتی کارکن ہیں۔ وہ 10 اکتوبر 1963ء کو فیصل آباد (سابقہ لائل پور) میں ایک ک...
مکمل تعارف پڑھیں