ٹھیک نہ ہوں جب تک اندازے اندر سے
بھرنا پڑتے ہیں خمیازے اندر سے
دستک سے دیواریں جھڑنے لگتی تھیں
کھول دئیے ہیں سب دروازے اندر سے
بہت غنیمت ہے اس ھو کے عالم میں
اٹھتے رہتے ہیں آوازے اندر سے
پت جھڑ کا موسم بیکار نہیں جاتا
زخم نکل آتے ہیں تازے اندر سے
ناک اور بازو کٹے پڑے ہیں گلیوں میں
اٹھوائے گا کون جنازے اندر سے
Theek na hoon jab tak andaaze andar se
Bharna padte hain khamiyaaze andar se
Dastak se deewarein jhadne lagti thin
Khol diye hain sab darwaze andar se
Bahut ghaneemat hai is hoo ke aalam mein
Uthte rehte hain awaaze andar se
Pat jhad ka mausam bekar nahin jata
Zakhm nikal aate hain taaze andar se
Naak aur baazu kate pade hain galiyon mein
Uthwayega kaun janaze andar se
انجم سلیمی اردو اور پنجابی کے معروف معاصر شاعر، ریڈیو اینکر اور ادبی و ثقافتی کارکن ہیں۔ وہ 10 اکتوبر 1963ء کو فیصل آباد (سابقہ لائل پور) میں ایک ک...
مکمل تعارف پڑھیں