اسرار الحق مجاز — شاعر کی تصویر

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے — اسرار الحق مجاز

شاعر

تعارف شاعری

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے
اور صبر آزما بھی ہوتی ہے
روح ہوتی ہے کیف پرور بھی
اور درد آشنا بھی ہوتی ہے
حسن کو کر نہ دے یہ شرمندہ
عشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے
بن گئی رسم بادہ خواری بھی
یہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے
جس کو کہتے ہیں نالۂ برہم
ساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے
کیا بتا دو مجازؔ کی دنیا
کچھ حقیقت نما بھی ہوتی ہے

Ashiqi Jaan Faza Bhi Hoti Hai

Ashiqi jaan faza bhi hoti hai
Aur sabr azma bhi hoti hai
Rooh hoti hai kaif parwar bhi
Aur dard ashna bhi hoti hai
Husn ko kar na de ye sharminda
Ishq se ye khata bhi hoti hai
Ban gayi rasm-e-bada-khwari bhi
Ye namaz ab qaza bhi hoti hai
Jis ko kehte hain nala-e-barham
Saaz mein woh sada bhi hoti hai
Kya bata do Majaz! ki duniya
Kuch haqiqat numa bhi hoti hai

شاعر کے بارے میں

اسرار الحق مجاز

اسرار الحق مجاز، جنہیں ہم شاعری میں تخلص مجاز کے نام سے جانتے ہیں، اردو ادب کے عظیم غزل گو اور نثر نگار تھے۔ وہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۱۱ کو قریہ روداولی، ضلع...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام