آزاد گلاٹی — شاعر کی تصویر

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں — آزاد گلاٹی

شاعر

تعارف شاعری

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں

میں اپنے آپ سے اک کھیل کرنے والا ہوں
سبھی یہ سوچ رہے ہیں کہ مرنے والا ہوں
کسی کی یاد کا مہتاب ڈوبنے کو ہے
میں پھر سے شب کی تہوں میں اترنے والا ہوں
سمیٹ لو مجھے اپنی صدا کے حلقوں میں
میں خامشی کی ہوا سے بکھرنے والا ہوں
مجھے ڈبونے کا منظر حسین تھا لیکن
حسین تر ہے یہ منظر ابھرنے والا ہوں
حیات فرض تھی یا قرض کٹنے والی ہے
میں جسم و جاں کی حدوں سے گزرنے والا ہوں
میں ساتھ لے کے چلوں گا تمہیں اے ہم سفرو
میں تم سے آگے ہوں لیکن ٹھہرنے والا ہوں
صدائے دشت سہی میری زندگی آزادؔ
خلائے دشت کو اپنے سے بھرنے والا ہوں

Main apne aap se ik khel karne wala hoon

Main apne aap se ik khel karne wala hoon
Sabhi yeh soch rahe hain ke marne wala hoon
Kisi ki yaad ka mehtaab doobne ko hai
Main phir se shab ki tehonn mein utarne wala hoon
Sameet lo mujhe apni sada ke halqon mein
Main khamoshi ki hawa se bikharne wala hoon
Mujhe dubone ka manzar haseen tha lekin
Haseen tar hai yeh manzar ubharne wala hoon
Hayat farz thi ya qarz katne wali hai
Main jism-o-jaan ki hadon se guzarne wala hoon
Main saath le ke chalunga tumhein aye hum safaro
Main tum se aage hoon lekin theherne wala hoon
Sada-e-dasht sahi meri zindagi 'Azad'
Khala-e-dasht ko apne se bharne wala hoon

شاعر کے بارے میں

آزاد گلاٹی

آزاد گلاٹی اردو کے ممتاز جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت اور جدت کے حسین امتزاج سے اپنی منفرد ادبی شناخت قائم کی۔ وہ 1935ء میں ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام