بہزاد لکھنوی — شاعر کی تصویر

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا — بہزاد لکھنوی

شاعر

تعارف شاعری

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا
بے اثر ہو گئی تو کیا ہوگا
شام غم آ چلے تصور میں
اب سحر ہو گئی تو کیا ہوگا
وہ نظر جس کو ہے خبر میری
بے خبر ہو گئی تو کیا ہوگا
داستاں عشق کی طویل تو ہے
مختصر ہو گئی تو کیا ہوگا
شب نہ کاٹے کٹی تو ہوگا کیا
اور بسر ہو گئی تو کیا ہوگا
آہ گو دل سے ہم نہیں کرتے
کارگر ہو گئی تو کیا ہوگا
روبرو ان کے چپ تو ہوں بہزادؔ
آنکھ تر ہو گئی تو کیا ہوگا

Aah asar ho gayi to kya hoga

Aah asar ho gayi to kya hoga
Be-asar ho gayi to kya hoga
Sham-e-gham aa chale tasavvur mein
Ab sahar ho gayi to kya hoga
Woh nazar jis ko hai khabar meri
Be-khabar ho gayi to kya hoga
Dastan-e-ishq ki taweel to hai
Mukhtasar ho gayi to kya hoga
Shab na kaate kati to hoga kya
Aur basar ho gayi to kya hoga
Aah go dil se hum nahi karte
Kargar ho gayi to kya hoga
Rubaroo un ke chup to hoon Behzad
Aankh tar ho gayi to kya hoga

شاعر کے بارے میں

بہزاد لکھنوی

بہزاد لکھنوی اردو ادب کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں، خصوصاً غزل گوئی، فلمی نغمہ نگاری اور کلاسیکی لب و لہجے کی وجہ سے انہیں نمایاں مقام حاصل ہے۔ ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام