اقتدار جاوید — شاعر کی تصویر

بھیڑوں کو لے کے صبح گڈریا نکل پڑا — اقتدار جاوید

شاعر

تعارف شاعری

بھیڑوں کو لے کے صبح گڈریا نکل پڑا

بھیڑوں کو لے کے صبح گڈریا نکل پڑا
سورج نے آنکھ کھول دی دریا بھی چل پڑا
رس اس میں پھیلنے لگا یا سانس چل پڑی
شاخ شجر پہ جان پڑی تھی کہ پھل پڑا
چشمہ تھا جس پہ صبح پرندے اترنے تھے
میں عین آدھی رات کو خود سے نکل پڑا
سیال جیسے ہو کے مرے ساتھ ہو گئی
بھٹی پہ کوئی سونے کا ٹکڑا پگھل پڑا
جیسے کوئی بغیر توقع پلٹ پڑے
جیسے دیا اطاق میں خود آپ جل پڑا
موضوع اور بھی ہیں کہیں پر چھپے ہوئے
تیرا خیال ہی تھا جو ایسے اچھل پڑا
اک شاخ پر نہیں تو کھلا دوسرے پہ پھول
ہوتا ہے مسئلے کا کہیں حل پہ حل پڑا
پھیلا کچھ اس طرح سے کہ ہر شے لپیٹ لی
آ کر دو آبے میں کوئی پانی مچل پڑا

Bheron ko le ke subah gadariya nikal pada

Bheron ko le ke subah gadariya nikal pada
Sooraj ne aankh khol di darya bhi chal pada
Ras us mein phailne laga ya saans chal padi
Shaakh shajar pe jaan padi thi ke phal pada
Chashma tha jis pe subah parinde utarne the
Main ain aadhi raat ko khud se nikal pada
Sayyal jaise ho ke mere saath ho gai
Bhatti pe koi sone ka tukda pighal pada
Jaise koi baghair tawaqqo palat pade
Jaise diya itaaq mein khud aap jal pada
Mauzoo aur bhi hain kahin par chhupay hue
Tera khayal hi tha jo aise uchhal pada
Ek shaakh par nahin to khula doosre pe phool
Hota hai masle ka kahin hal pe hal pada
Phaila kuchh is tarah se ke har shai lapet li
Aa kar do aabe mein koi paani machal pada

شاعر کے بارے میں

اقتدار جاوید

اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معرو...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام