ہمارے کام رفتہ رفتہ سارے بن رہے تھے
کہ دریا چل پڑا تھا اور کنارے بن رہے تھے
کسی سے گفتگو آغاز ہونا چاہتی تھی
خدا نے بولنا تھا تیس پارے بن رہے تھے
بچھایا جا چکا تھا اک بچھونا آسماں پر
ابھی مہتاب بننا تھا ستارے بن رہے تھے
چھپائی جا رہی تھی آگ سی اس میں کوئی شے
ہوا معلوم کہ وہ دل ہمارے بن رہے تھے
مری نگران تھیں آنکھیں جہاں پر تو کھڑی تھی
جہاں پر تیری نظریں تھیں نظارے بن رہے تھے
رکی تھی حلق میں آواز سے ملتی ہوئی چیز
تھی کوئی بات جو اتنے اشارے بن رہے تھے
جہاں پر تیز بارش تھی وہیں تھی بند ڈبیہ
وہیں سے ہوتے ہوتے سرخ دھارے بن رہے تھے
گلی میں شور سا برپا تھا اور بچے گھروں سے
نکلنے والے تھے رنگیں غبارے بن رہے تھے
اقتدار جاوید
Hamare kaam rafta rafta saare ban rahe the
Ke darya chal pada tha aur kinare ban rahe the
Kisi se guftugu aaghaz hona chahti thi
Khuda ne bolna tha tees paare ban rahe the
Bichhaya ja chuka tha ik bichhona aasman par
Abhi mahtaab banna tha sitare ban rahe the
Chhupayi ja rahi thi aag si us mein koi shai
Hua maloom ke woh dil hamare ban rahe the
Meri nigehbaan th-een aankhein jahan par tu khadi thi
Jahan par teri nazrein th-een nazzare ban rahe the
Ruki thi halq mein aawaz se milti hui cheez
Thi koi baat jo itne ishaare ban rahe the
Jahan par tez baarish thi wahin thi band dibiya
Wahin se hote hote surkh dhaare ban rahe the
Gali mein shor sa barpa tha aur bacche gharon se
Nikalne wale the rangeen ghubare ban rahe the
اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معرو...
مکمل تعارف پڑھیں