ہزار بار وہ بیٹھا ہزار بار اٹھا
بچا نہ شہر میں کچھ بھی تو چوب دار اٹھا
ازل سے راہ نوردی جو تھی وہ اب بھی ہے
ابھی چھٹا تھا ابھی راہ میں غبار اٹھا
نفس کے تار کی گرہیں کہ کائنات کے خم
سراب دل میں تھا صحرا کے آر پار اٹھا
خموشیوں کے تکلم کو پوجنے والا
وہی تھا بزم میں آخر گناہ گار اٹھا
وہ ساتھ تھا تو مقدس تھے میرے سارے حروف
بچھڑ گیا ہے تو لفظوں کا اعتبار اٹھا
اقتدار جاوید
Hazaar baar woh baitha hazaar baar utha
Bacha na sheher mein kuch bhi to chob daar utha
Azal se raah navardi jo thi woh ab bhi hai
Abhi chhuta tha abhi raah mein ghubaar utha
Nafas ke taar ki girhein ke kainat ke kham
Saraab dil mein tha sehra ke aar paar utha
Khamoshiyon ke takallum ko poojne wala
Wahi tha bazm mein aakhir gunahgaar utha
Woh saath tha to muqaddas the mere saare haroof
Bichhad gaya hai to lafzon ka aitbaar utha
اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معرو...
مکمل تعارف پڑھیں