اقتدار جاوید — شاعر کی تصویر

حفاظت کا نشہ پھیلا تو پھر نقصان پہنچا — اقتدار جاوید

شاعر

تعارف شاعری

حفاظت کا نشہ پھیلا تو پھر نقصان پہنچا

حفاظت کا نشہ پھیلا تو پھر نقصان پہنچا
ہرن اس وقت دوڑا جب شکاری آن پہنچا
سمندر رات کا تھا جب سفر کی کشتیاں تھیں
جزیرہ ڈوبنے والا تھا اور مہمان پہنچا
کہیں رستے ترے محدود ہوتے جا رہے تھے
میں تیرے واسطے لے کر کئی امکان پہنچا
دعائیں بازوؤں پر باندھ کر ہم جا چکے تھے
ہمارے شہر میں جب موت کا فرمان پہنچا
عجب مہمان کا عالم تھا جب اس نے صدا دی
عجب گھر بار کا عالم تھا جب مہمان پہنچا

Hifazat ka nasha phaila to phir nuqsan pahuncha

Hifazat ka nasha phaila to phir nuqsan pahuncha
Hiran us waqt dauda jab shikari aan pahuncha
Samandar raat ka tha jab safar ki kashtiyan theen
Jazeera doobne wala tha aur mehmaan pahuncha
Kahin raste tere mahdood hote ja rahe the
Main tere waaste le kar kai imkaan pahuncha
Duaein bazuo'n par baandh kar hum ja chuke the
Hamare shehar mein jab maut ka farman pahuncha
Ajab mehmaan ka aalam tha jab us ne sada di
Ajab ghar baar ka aalam tha jab mehmaan pahuncha

شاعر کے بارے میں

اقتدار جاوید

اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معرو...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام