کئی سمتوں میں چلتا جا رہا ہوں
کہ چشمہ ہوں ابلتا جا رہا ہوں
کئی لہریں اٹھاتا جا رہا ہوں
کئی جوہر اگلتا جا رہا ہوں
اسی پانی سے میں ظاہر ہوا تھا
اسی پانی میں ڈلتا جا رہا ہوں
رکوں گا کیا ہتھیلی پر کسی کی
کہ موتی ہوں پھسلتا جا رہا ہوں
بڑی مشکل سے جو حاصل ہوئی تھی
وہی رنگت بدلتا جا رہا ہوں
کوئی پہنچا رہا ہے میرا حصہ
میں پتھر میں ہوں پلتا جا رہا ہوں
ثمر بار آوری کا میرا موسم
مسلسل ہے سو پھلتا جا رہا ہوں
جزیرے ہیں ابھرتے جا رہے ہیں
سمندر ہوں نگلتا جا رہا ہوں
دعا ہوں جو لبوں پر آ گئی ہے
کوئی طوفاں ہوں ٹلتا جا رہا ہوں
اقتدار جاوید
Kayi simton mein chalta ja raha hoon
Ke chashma hoon ubalta ja raha hoon
Kayi lehrein uthata ja raha hoon
Kayi jauhar ugalta ja raha hoon
Isi paani se main zahir hua tha
Isi paani mein dhalta ja raha hoon
Rukunga kya hatheli par kisi ki
Ke moti hoon phisalta ja raha hoon
Badi mushkil se jo hasil hui thi
Wahi rangat badalta ja raha hoon
Koi pahuncha raha hai mera hissa
Main patthar mein hoon palta ja raha hoon
Samar bar-awari ka mera mausam
Musalsal hai so phalta ja raha hoon
Jazeere hain ubharte ja rahe hain
Samundar hoon nigalta ja raha hoon
Dua hoon jo labon par aa gayi hai
Koi toofan hoon talta ja raha hoon
اقتدار جاوید معاصر اردو ادب کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور علامتی اسلوب کے ذریعے اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ یکم نومبر 1959ء کو ضلع منڈی بہاؤالدین کے گاؤں بادشاہ پور میں پیدا ہونے والے اقتدار جاوید ایک علمی اور روحانی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد سراج قادری پنجابی زبان کے معرو...
مکمل تعارف پڑھیں