جگر مراد آبادی — شاعر کی تصویر

کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے — جگر مراد آبادی

شاعر

تعارف شاعری

کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے

کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
دل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہے
ہم نے کیا کچھ نہ کیا دیدۂ دل کی خاطر
لوگ کہتے ہیں دعاؤں میں اثر ہوتا ہے
دل تو یوں دل سے ملایا کہ نہ رکھا میرا
اب نظر کے لیے کیا حکم نظر ہوتا ہے
میں گنہ گار جنوں میں نے یہ مانا لیکن
کچھ ادھر سے بھی تقاضائے نظر ہوتا ہے
کون دیکھے اسے بیتاب محبت اے دل
تو وہ نالے ہی نہ کر جن میں اثر ہوتا ہے

Kyā barābar kā mohabbat meñ asar hotā hai

Kyā barābar kā mohabbat meñ asar hotā hai
Dil idhar hotā hai zālim na idhar hotā hai
Ham ne kyā kuchh na kiyā dīda o dil kī ḳhātir
Log kahte haiñ du'āoñ meñ asar hotā hai
Dil to yūñ dil se milāyā ki na rakhā merā
Ab nazar ke liye kyā hukm-e-nazar hotā hai
Maiñ gunahgār-e-junūñ maiñ ne ye maanā lekin
Kuchh idhar se bhī taqāzā-e-nazar hotā hai
Kaun dekhe use betāb-e-mohabbat ai dil
Tū vo nāle hī na kar jin meñ asar hotā hai

شاعر کے بارے میں

جگر مراد آبادی

جگر مرادآبادی اردو کے ممتاز کلاسیکی غزل نگار اور صوفی شاعر تھے، جن کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر مرادآبادی تھا۔ ان کی پیدائش چھ اپریل انیس ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام