خالی شراب عشق سے ساغر کبھی نہ تھے
ایسے تو خشک دل کے سمندر کبھی نہ تھے
جو سنگ احتساب یگانوں کے پاس ہیں
دشمن کے ہاتھ میں بھی وہ پتھر کبھی نہ تھے
کس سمت جا رہے ہیں انہیں خود پتا نہیں
یوں بے خبر تو راہ سے رہبر کبھی نہ تھے
دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا زخمی ہے روح بھی
اتنے تو تیز وقت کے نشتر کبھی نہ تھے
ملتا نہیں کہیں بھی در و بام کا نشاں
ہم گھر میں رہ کے اتنے تو بے گھر کبھی نہ تھے
کیا جانیں کیا ہوئیں وہ حسیں شوخیاں حیاتؔ
ایسے نڈھال پھول سے پیکر کبھی نہ تھے
مسعودہ حیات
Khali sharab-e-ishq se saghar kabhi na thhe
Aise to khushk dil ke samundar kabhi na thhe
Jo sang-e-ehtisab yaganon ke paas hain
Dushman ke haath mein bhi wo patthar kabhi na thhe
Kis simt ja rahe hain unhein khud pata nahin
Yun be-khabar to raah se rah-bar kabhi na thhe
Dil tukde tukde ho gaya zakhmi hai rooh bhi
Itne to tez waqt ke nashtar kabhi na thhe
Milta nahin kahin bhi dar-o-baam ka nishan
Hum ghar mein rah ke itne to be-ghar kabhi na thhe
Kya jaanein kya huiin wo haseen shokhiyan Hayaat
Aise niḍhaal phool se paikar kabhi na thhe
ِمسعودہ حیات اردو کی معروف شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور حساس طرزِ اظہار کے ذریعے اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1935ء میں دہلی میں پیدا ہونے والی مسعودہ حیات نے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے ادب کی خدمت کو بھی اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ ان کی شخصیت میں ایک معلم کی سنجیدگی اور ایک شاعرہ کی لطافت یکجا نظر آتی ہے، جس کا عک...
مکمل تعارف پڑھیں