چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے
مطلب یہ ہے کہ رکھ دے کلیجہ نکال کے
واعظ سے بحث بادہ و پیمانہ کیا کروں
کچھ لوگ رہ گئے ہیں پرانے خیال کے
سو داغ جن کے لائے ہیں زیر مزار ہم
احساں جتا رہے ہیں وہ دو پھول ڈال کے
پھر ڈھونڈھتا ہے دل خلش خار آرزو
پچھتا رہا ہوں دل سے یہ کانٹا نکال کے
یہ غم کدہ ہے اس میں مبارکؔ خوشی کہاں
غم کو خوشی بنا کوئی پہلو نکال کے
مبارک عظیم آبادی
Chitwan jo qahr ki hai to tewar jalal ke
Matlab yeh hai ki rakh de kaleja nikal ke
Wa'iz se bahs-e-baada-o-paimana kya karoon
Kuchh log reh gaye hain purane khayal ke
Sau daagh jin ke laye hain zer-e-mazaar hum
Ehsaan jata rahe hain woh do phool daal ke
Phir dhoondhta hai dil khalish-e-khar-e-aarzoo
Pachhtata raha hun dil se yeh kanta nikal ke
Yeh gham-kada hai is mein Mubarak khushi kahan
Gham ko khushi bana koi pehlu nikal ke
مبارک عظیم آبادی اردو شاعری کے اُن معتبر اور باوقار ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی غزل کی روایت کو اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کا اصل تعلق بہار کے تاریخی شہر عظیم آباد (موجودہ پٹنہ) سے تھا، اسی نسبت سے وہ مبارک عظیم آبادی کہلائے۔ وہ29 اپریل 1896ءکو ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے، جہاں زبان و ادب کی قدروں نے ان کی شخصیت...
مکمل تعارف پڑھیں