نہ لائے تاب دید اوسان والے
ترے جلوے بھی ہیں کیا شان والے
ہزاروں مے کدے سر پر لیے ہیں
یہ بادل ہیں بڑے سامان والے
میں ان سے اپنے ارماں کہہ رہا ہوں
وہ کہتے ہیں بڑے ارمان والے
تری کافر ادا نے کس کو چھوڑا
کہیں ایمان سے ایمان والے
حسینوں سے مبارکؔ دب کے ملنا
کہ ہیں وہ آن والے شان والے
مبارک عظیم آبادی
Na laaye taab-e-deed ousan wale
Tere jalwe bhi hain kya shaan wale
Hazaron maikade sar par liye hain
Yeh badal hain bade samaan wale
Main un se apne armaan keh raha hun
Woh kehte hain bade armaan wale
Teri kafir ada ne kis ko chhora
Kahin imaan se imaan wale
Haseenon se Mubarak dab ke milna
Ki hain woh aan wale shaan wale
مبارک عظیم آبادی اردو شاعری کے اُن معتبر اور باوقار ناموں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی غزل کی روایت کو اپنے منفرد اسلوب کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کا اصل تعلق بہار کے تاریخی شہر عظیم آباد (موجودہ پٹنہ) سے تھا، اسی نسبت سے وہ مبارک عظیم آبادی کہلائے۔ وہ29 اپریل 1896ءکو ایک علمی و ادبی ماحول میں پیدا ہوئے، جہاں زبان و ادب کی قدروں نے ان کی شخصیت...
مکمل تعارف پڑھیں