محمد علوی — شاعر کی تصویر

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا

آگ پانی سے ڈرتا ہوا میں ہی تھا
چاند کی سیر کرتا ہوا میں ہی تھا
سر اٹھائے کھڑا تھا پہاڑوں پہ میں
پتی پتی بکھرتا ہوا میں ہی تھا
میں ہی تھا اس طرف زخم کھایا ہوا
اس طرف وار کرتا ہوا میں ہی تھا
جاگ اٹھا تھا صبح موت کی نیند سے
رات آئی تو مرتا ہوا میں ہی تھا
میں ہی تھا منزلوں پہ پڑا ہانپتا
راستوں میں ٹھہرتا ہوا میں ہی تھا
مجھ سے پوچھے کوئی ڈوبنے کا مزا
پانیوں میں اترتا ہوا میں ہی تھا
میں ہی تھا علویؔ کمرے میں سویا ہوا
اور گلی سے گزرتا ہوا میں ہی تھا

Aag paani se darta hua main hi tha

Aag paani se darta hua main hi tha
Chaand ki sair karta hua main hi tha
Sar uthaye khada tha pahadon pe main
Patti patti bikharta hua main hi tha
Main hi tha us taraf zakhm khaya hua
Us taraf waar karta hua main hi tha
Jaag utha tha subah maut ki neend se
Raat aayi toh marta hua main hi tha
Main hi tha manzilon pe pada haanpta
Raaston mein theharta hua main hi tha
Mujh se poochhe koi doobne ka maza
Paaniyon mein utarta hua main hi tha
Main hi tha Alvi kamre mein soya hua
Aur gali se guzarta hua main hi tha

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام