سنتے ہو اک بار وہاں پھر ہو آؤ
ایک بار پھر اس کی چوکھٹ پر جاؤ
دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دو
جب وہ سامنے آئے تو پرنام کرو
میں کچھ بھول گیا ہوں شاید اس سے کہو
کیا بھولا ہوں یاد نہیں آتا کہہ دو
اس سے پوچھو ''کیا تم بتلا سکتی ہو''
وہ ہنس دے تو کہہ دو جو کہنا چاہو
اور خفا ہو جائے تو آگے مت سوچو
محمد علوی
Sunte ho ik baar wahan phir ho aao
Ek baar phir us ki chaukhat par jaao
Darwaze par dheere dheere dastak do
Jab woh saamne aaye to parnaam karo
Main kuch bhool gaya hoon shayad us se kaho
Kya bhoola hoon yaad nahin aata keh do
Us se poocho ''kya tum batla sakti ho''
Woh hans de to keh do jo kehna chaaho
Aur khafa ho jaaye to aage mat socho
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں