اب کے برسات میں پانی آئے
خشک دریا میں روانی آئے
ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی
رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے
پھول سا روپ لیے دن نکلے
رات آئے تو سہانی آئے
دھوپ آئے تو سہانی آئے
چاندنی لے کے جوانی آئے
شعر کہتے ہیں یونہی سے علویؔ
کیا ہمیں بات بنانی آئے
محمد علوی
Ab ke barsaat mein pani aaye
Khushk darya mein rawani aaye
Har ghata kali ho kajal jaisi
Rang har khet pe dhaani aaye
Phool sa roop liye din nikle
Raat aaye to suhani aaye
Dhoop aaye to suhani aaye
Chandni le ke jawani aaye
Sher kehte hain yunhi se Alwi
Kya hamen baat banani aaye
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں