ابھی میں نے اسے دیکھا نہیں ہے
خدا جانے وہ ہے بھی یا نہیں ہے
اسی دنیا میں خوشیاں ڈھونڈھتا ہوں
کروں کیا دوسری دنیا نہیں ہے
یہ دل اندر ہی اندر جل رہا ہے
بہت دن ہو گئے رویا نہیں ہے
صبح سے آسماں خالی پڑا ہے
پرندہ ایک بھی اڑتا نہیں ہے
میں ایسے شہر میں رہتا ہوں علویؔ
جہاں پل ہیں مگر دریا نہیں ہے
محمد علوی
Abhi main ne use dekha nahin hai
Khuda jaane woh hai bhi ya nahin hai
Isi duniya mein khushiyan dhoondhta hoon
Karoon kya doosri duniya nahin hai
Yeh dil andar hi andar jal raha hai
Bahut din ho gaye roya nahin hai
Subh se aasman khaali pada hai
Parinda ek bhi udta nahin hai
Main aise shahar mein rehta hoon Alvi
Jahan pul hain magar darya nahin hai
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں