محمد علوی — شاعر کی تصویر

ابھی رویا ابھی ہنسنے لگا ہوں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ابھی رویا ابھی ہنسنے لگا ہوں

ابھی رویا ابھی ہنسنے لگا ہوں
تو کیا سچ مچ میں پاگل ہو گیا ہوں
ابھی میں اپنے گھر میں سو رہا تھا
ابھی میں گھر سے بے گھر ہو گیا ہوں
انہیں لوگوں سے مل کر خوش ہوا تھا
انہیں لوگوں سے ڈرتا پھر رہا ہوں
مرے اپنے ہی مجھ کو مارتے ہیں
میں اپنی ہی شکایت کر رہا ہوں
یہیں جینا یہیں مرنا ہے مجھ کو
برا کیا ہے اگر میں مر رہا ہوں
غزل کہنے کو جی چاہا نہ علویؔ
تو اپنا مرثیہ ہی کہہ رہا ہوں

Abhi roya abhi hansne laga hoon

Abhi roya abhi hansne laga hoon
To kya sach much mein pagal ho gaya hoon
Abhi main apne ghar mein so raha tha
Abhi main ghar se be-ghar ho gaya hoon
Inhi logon se mil kar khush hua tha
Inhi logon se darta phir raha hoon
Mere apne hi mujh ko marte hain
Main apni hi shikayat kar raha hoon
Yahin jeena yahin marna hai mujh ko
Bura kya hai agar main mar raha hoon
Ghazal kehne ko jee chaha na Alvi
To apna marsiya hi keh raha hoon

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام