محمد علوی — شاعر کی تصویر

ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے

ابھی تو اور بھی دن بارشوں کے آنے تھے
کرشمے سارے اسے آج ہی دکھانے تھے
حقارتیں ہی ملیں ہم کو زنگ آلودہ
دلوں میں یوں تو کئی قسم کے خزانے تھے
یہ دشت تیل کا پیاسا نہ تھا خدا وندا
یہاں تو چار چھ دریا ہمیں بہانے تھے
کسی سے کوئی تعلق رہا نہ ہو جیسے
کچھ اس طرح سے گزرتے ہوئے زمانے تھے
پرندے دور فضاؤں میں کھو گئے علویؔ
اجاڑ اجاڑ درختوں پہ آشیانے تھے

Abhi to aur bhi din barishon ke aane the

Abhi to aur bhi din barishon ke aane the
Karishme saare use aaj hi dikhane the
Haqaratein hi milin hum ko zang aalooda
Dilon mein yun to kayi qism ke khazane the
Ye dasht tel ka pyasa na tha Khudawanda
Yahan to chaar chh dariya hamein bahane the
Kisi se koi ta'alluq raha na ho jaise
Kuch is tarah se guzarte hue zamane the
Parinde door fizaon mein kho gaye Alvi
Ujaad ujaad darakhton pe aashiyane the

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام