اچانک تری یاد کا سلسلہ
اندھیرے کی دیوار بن کے گرا
ابھی کوئی سایہ نکل آئے گا
ذرا جسم کو روشنی تو دکھا
پڑا تھا درختوں تلے ٹوٹ کر
چمکتی ہوئی دھوپ کا آئنا
کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں
عجب حال ہے آج کل شہر کا
میں اس کے بدن کی مقدس کتاب
نہایت عقیدت سے پڑھتا رہا
یہ کیا آپ پھر شعر کہنے لگے
ارے یار علویؔ یہ پھر کیا ہوا
محمد علوی
Achanak teri yaad ka silsila
Andhere ki deewar ban ke gira
Abhi koi saya nikal aayega
Zara jism ko roshni to dikha
Pada tha darakhton tale toot kar
Chamakti hui dhoop ka aaina
Koi apne ghar se nikalta nahin
Ajab haal hai aaj kal shahar ka
Main us ke badan ki muqaddas kitab
Nihayat aqeedat se padhta raha
Ye kya aap phir sher kehne lage
Are yaar Alvi ye phir kya hua
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں