ایسا ہوا نہیں ہے پر ایسا نہ ہو کہیں
اس نے مجھے نہ دیکھ کے دیکھا نہ ہو کہیں
قدموں کی چاپ دیر سے آتی ہے کان میں
کوئی مرے خیال میں پھرتا نہ ہو کہیں
سنکی ہوئی ہواؤں میں خوشبو کی آنچ ہے
پتوں میں کوئی پھول دہکتا نہ ہو کہیں
یہ کون جھانکتا ہے کواڑوں کی اوٹ سے
بتی بجھا کے دیکھ سویرا نہ ہو کہیں
علویؔ خدا کے واسطے گھر میں پڑے رہو
باہر نہ جاؤ پھر کوئی جھگڑا نہ ہو کہیں
محمد علوی
Aisa hua nahin hai par aisa na ho kahin
Us ne mujhe na dekh ke dekha na ho kahin
Qadmon ki chaap der se aati hai kaan mein
Koi mere khayal mein phirta na ho kahin
Sanki hui hawaon mein khushboo ki aanch hai
Pattton mein koi phool dehakta na ho kahin
Ye kaun jhankta hai kiwadon ki oot se
Batti bujha ke dekh sawera na ho kahin
Alvi Khuda ke waaste ghar mein pade raho
Bahar na jao phir koi jhagda na ho kahin
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں