عجب خوف سا دل پہ چھا جائے گا
دھماکہ پرندے اڑا جائے گا
محبت میں جی کا زیاں ہی سہی
کسی کا مگر اس میں کیا جائے گا
چھپا کر نہ آنکھوں میں رکھ پاؤ گے
کوئی خواب نیندیں چرا جائے گا
ابھی موڈ ہے شعر سن لو میاں
پھر ہم سے نہ کچھ بھی کہا جائے گا
ارے یار علویؔ کو روکو ذرا
مزہ مار کے سب چلا جائے گا
محمد علوی
Ajab khauf sa dil pe chha jaega
Dhamaka parinde uda jaega
Mohabbat mein ji ka ziyan hi sahi
Kisi ka magar is mein kya jaega
Chhupa kar na aankhon mein rakh paoge
Koi khwab neendein chura jaega
Abhi mod hai sher sun lo miyan
Phir hum se na kuch bhi kaha jaega
Are yaar Alvi ko roko zara
Maza maar ke sab chala jaega
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں