محمد علوی — شاعر کی تصویر

اور پھر یوں ہوگا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

اور پھر یوں ہوگا

ہاں یہ آخری صدی ہے
اس کے اختتام پر
یہ زمیں
سورج کی گرفت سے نکل کر
اندھیروں میں ڈوبتی چلی جائے گی
اور کسی تاریک سیارے سے ٹکرا کر
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی!
اور پھر یوں ہوگا
زمیں کے اک ٹکڑے پر
اک درخت ہوگا
اور اس کی چھاؤں میں
اک بھائی
اور اک بہن
اک دوسرے سے لپٹ کر
سو رہے ہوں گے
اور شیطان
ان کے تلوے چاٹ رہا ہوگا
اور زمیں کا وہ ٹکڑا
اک نئے سورج کے گرد
چکر کاٹ رہا ہوگا!!

Aur Phir Yun Hoga

Haan yeh akhri sadi hai
Is ke ikhtitam par
Yeh zameen
Suraj ki giraft se nikal kar
Andheron mein doobti chali jayegi
Aur kisi tareek sayyare se takra kar
Tukde tukde ho jayegi!
Aur phir yun hoga
Zameen ke ik tukde par
Ik darakht hoga
Aur us ki chhaon mein
Ik bhai
Aur ik behan
Ik doosre se lipat kar
So rahe honge
Aur shaitan
Un ke talwe chaat raha hoga
Aur zameen ka woh tukra
Ik naye suraj ke gird
Chakkar kaat raha hoga!!

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام