محمد علوی — شاعر کی تصویر

اوروں کے گھر جلا کے قیامت نہ کر سکا — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

اوروں کے گھر جلا کے قیامت نہ کر سکا

اوروں کے گھر جلا کے قیامت نہ کر سکا
گھر جل گیا مگر میں شکایت نہ کر سکا
اس نے مجھے تباہ کیا اس کے باوجود
دو چار دن بھی اس سے میں نفرت نہ کر سکا
اپنے سے بڑھ کے تجھ پہ مجھے اعتماد تھا
افسوس تو بھی میری حفاظت نہ کر سکا
میں نے بھی اپنی موت کو دیکھا قریب سے
اور اس کے بعد جینے کی حسرت نہ کر سکا
مسجد شہید ہونے کا غم تو کیا مگر
اک بار بھی میں اس میں عبادت نہ کر سکا
سچ ہے وطن سے اپنے محبت نہیں مجھے
شاید اسی وجہ سے میں ہجرت نہ کر سکا
علویؔ غلط بیانیاں دیتے رہے سبھی
سچ بولنے کی ایک بھی ہمت نہ کر سکا

auron ke ghar jala ke qayamat na kar saka

auron ke ghar jala ke qayamat na kar saka
ghar jal gaya magar main shikayat na kar saka
us ne mujhe tabah kiya us ke ba-wajood
do char din bhi us se main nafrat na kar saka
apne se baDh ke tujh pe mujhe aetimad tha
afsos tu bhi meri hifazat na kar saka
main ne bhi apni maut ko dekha qareeb se
aur us ke baad jeene ki hasrat na kar saka
masjid shaheed hone ka gham to kiya magar
ik bar bhi main us mein ibadat na kar saka
sach hai watan se apne muhabbat nahin mujhe
shayad isi wajah se main hijrat na kar saka
Alwi ghalat bayaniyan dete rahe sabhi
sach bolne ki ek bhi himmat na kar saka

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام