اپنے خدا کو حاضر جان کے
میں جو کہوں گا سچ ہی کہوں گا
سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گا
مجھ کو کچھ معلوم نہیں ہے
بس اتنا معلوم ہے صاحب
کمرے میں اک لاش پڑی تھی
لاش کے پاس اک شخص کھڑا تھا
اس کی بائیں آنکھ میں تل تھا
دودھ سے اجلا اس کا دل تھا
سب کہتے ہیں وہ قاتل تھا!
محمد علوی
Apne Khuda ko hazir jaan ke
Main jo kahunga sach hi kahunga
Sach ke alawa kuch na kahunga
Mujh ko kuch maloom nahin hai
Bas itna maloom hai saahab
Kamre mein ik laash padi thi
Laash ke paas ik shakhs khada tha
Uski baaein aankh mein til tha
Doodh se ujla uska dil tha
Sab kehte hain woh qatil tha!
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں