محمد علوی — شاعر کی تصویر

بائی آنکھ میں تل والے کی زبانی — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

بائی آنکھ میں تل والے کی زبانی

اپنے خدا کو حاضر جان کے
میں جو کہوں گا سچ ہی کہوں گا
سچ کے علاوہ کچھ نہ کہوں گا
مجھ کو کچھ معلوم نہیں ہے
بس اتنا معلوم ہے صاحب
کمرے میں اک لاش پڑی تھی
لاش کے پاس اک شخص کھڑا تھا
اس کی بائیں آنکھ میں تل تھا
دودھ سے اجلا اس کا دل تھا
سب کہتے ہیں وہ قاتل تھا

Baai Aankh mein Til Waale ki Zabaani

Apne Khuda ko haazir jaan ke
Main jo kahunga sach hi kahunga
Sach ke alawa kuchh na kahunga
Mujh ko kuchh maloom nahin hai
Bas itna maloom hai sahib
Kamre mein ek laash padi thi
Laash ke paas ek shakhs khada tha
Uski baai aankh mein til tha
Doodh se ujla uska dil tha
Sab kehte hain woh qatil tha

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام