محمد علوی — شاعر کی تصویر

بدن کا فیصلہ — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

بدن کا فیصلہ

یہ بدن
جسے میں
بہترین غذائیں کھلاتا رہا
پانی کی جگہ
شراب پلاتا رہا
یہی بدن
مجھ سے کہتا ہے
جاؤ
دفع ہو جاؤ
جنت کے مزے اڑاؤ
کہ دوزخ کے عذاب اٹھاؤ
میری بلا سے
میں تو اب
قبر میں سو رہوں گا
مٹی ہوں
مٹی کا ہو رہوں گا!!

Badan Ka Faisla

Yeh badan
Jise main
Behtareen ghizayein khilata raha
Pani ki jagah
Sharab pilata raha
Yehi badan
Mujh se kehta hai
Jao
Dafa ho jao
Jannat ke maze urao
Ke dozakh ke azab uthao
Meri bala se
Main to ab
Qabar mein so rahunga
Matti hoon
Matti ka ho rahunga!!

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام