جاری جا اڑ جا چڑیا
اس گھر میں مت آ چڑیا
کیا تجھ کو معلوم نہیں
یہ گھر کب سے بند پڑا ہے
بہت دنوں کے بعد گھڑی بھر
اس گھر کا دروازہ کھلا ہے
اور تو اس گھر میں پگلی
رہنے بسنے آئی ہے
چھوڑ گئے جو اس گھر کو
ان پر ہنسنے آئی ہے
جاری جا اڑ جا چڑیا
اس گھر میں مت آ چڑیا
ابھی اندھیرا چھا جائے گا
یہ گھر تجھ کو کھا جائے گا
محمد علوی
Ja ri ja ur ja chiriya
Is ghar mein mat aa chiriya
Kya tujh ko maloom nahin
Yeh ghar kab se band pada hai
Bohat dinon ke baad ghadi bhar
Is ghar ka darwaza khula hai
Aur tu is ghar mein pagli
Rehne basne aayi hai
Chhod gaye jo is ghar ko
Un par hansne aayi hai
Ja ri ja ur ja chiriya
Is ghar mein mat aa chiriya
Abhi andhera chha jayega
Yeh ghar tujh ko kha jayega
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں