محمد علوی — شاعر کی تصویر

برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر

برسوں گھسا پٹا ہوا دروازہ چھوڑ کر
نکلوں نہ کیوں مکان کی دیوار توڑ کر
پانی تو اب ملے گا نہیں ریگزار میں
موقع ہے خوب دیکھ لو دامن نچوڑ کر
اب دوستوں سے کوئی شکایت نہیں رہی
دن بھی چلا گیا مجھے جنگل میں چھوڑ کر
تعمیر سے بلند ہے تخریب کا مقام
اک سے ہزار ہو گیا آئینہ توڑ کر
اپنے بدن کے ساتھ رہوں تو عذاب ہے
مر جاؤں گا میں جاؤں اگر اس کو چھوڑ کر
کیوں سر کھپا رہے ہو مضامیں کی کھوج میں
کر لو جدید شاعری لفظوں کو جوڑ کر

BarsoN Ghisa PiTa Hua Darwaza ChhoR Kar

BarsoN ghisa piTa hua darwaza chhoR kar
NikluN na kyun makan ki deewar toR kar
Paani to ab milega nahin regzar mein
Mauqa hai khoob dekh lo daman nichoR kar
Ab dostoN se koi shikayat nahin rahi
Din bhi chala gaya mujhe jangal mein chhoR kar
Tameer se buland hai takhreeb ka maqam
Ek se hazar ho gaya aaina toR kar
Apne badan ke saath rahuN to azab hai
Mar jauN ga main jauN agar is ko chhoR kar
KyuN sar khapa rahe ho mazameen ki khoj mein
Kar lo jadeed shayari lafzoN ko joR kar

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام