محمد علوی — شاعر کی تصویر

بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیں

بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیں
مرغیاں در بہ در بھٹکتی ہیں
نظم اترائے تو بجا بھی ہے
بی غزل کس لیے مٹکتی ہیں
ایک حاسد کی ایک ناقد کی
سر پہ تلواریں دو لٹکتی ہیں
یہ بھی شاعر ہیں ان کے بالوں میں
فکر و فن کی جوئیں بھٹکتی ہیں
علویؔ یہ گولیاں ہیں شہرت کی
یہ گلے میں کہاں اٹکتی ہیں

Bina murghay ke par jhatakti hain

Bina murghay ke par jhatakti hain
Murghiyan dar ba dar bhatakti hain
Nazm itraaye toh baja bhi hai
Be-ghazal kis liye matakti hain
Ek haasid ki ek naaqid ki
Sar pe talwarein do latakti hain
Yeh bhi shayar hain in ke baalon mein
Fikr o fan ki jooyian bhatakti hain
Alvi yeh goliyan hain shohrat ki
Yeh gale mein kahan atakti hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام