محمد علوی — شاعر کی تصویر

بجھے بجھے باہر رہتے ہیں — محمد علوی

شاعر

تعارف شاعری

بجھے بجھے باہر رہتے ہیں

بجھے بجھے باہر رہتے ہیں
گھر میں آ کر مر رہتے ہیں
خوابوں کا اک شہر ہے جس میں
طرح طرح کے ڈر رہتے ہیں
ایک ذرا سا دل ہے اپنا
لوگ اس میں کیوں کر رہتے ہیں
اک جیسے دن رات ہیں پھر بھی
روز نئے چکر رہتے ہیں
آپ اگر ملنا چاہیں تو
شام کو علویؔ گھر رہتے ہیں

Bujhe bujhe bahar rehte hain

Bujhe bujhe bahar rehte hain
Ghar mein aa kar mar rehte hain
Khwabon ka ek shahar hai jis mein
Tarah tarah ke dar rehte hain
Ek zara sa dil hai apna
Log us mein kyun kar rehte hain
Ek jaise din raat hain phir bhi
Roz naye chakkar rehte hain
Aap agar milna chahen to
Sham ko Alvi ghar rehte hain

شاعر کے بارے میں

محمد علوی

محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام