دھوپ دیوار سے رینگتے رینگتے
چارپائی کے نیچے
لٹکتے ہوئے پاؤں پر آ کے ڈسنے لگی!
کھیلتے کھیلتے
منی چلائی روئی پھر ہنسے لگی
چیل کا سایا
آنگن سے
دیوار سے
چھت سے ہوتا ہوا
پاس والی گلی میں کہیں گر گیا!
اور میں دھوپ میں
جھولتی چارپائی پر لیٹا ہوا
الگنی پر لٹکتی
پھٹی پینٹ کی خالی جیبوں کو تکتا رہا!
پینٹ کی خالی جیبوں سے پانی ٹپکتا رہا!
دھوپ کا زہر
پیروں سے ہوتا ہوا
دل کی جانب لپکتا رہا!
چیل کا سایا
سارے بدن میں بھٹکتا رہا!!
محمد علوی
Dhoop deewar se reengte reengte
Charpai ke neeche
Latakte hue paon par aa ke dasne lagi!
Khelte khelte
Munni chillai royi phir hansne lagi
Cheel ka saaya
Aangan se
Deewar se
Chhat se hota hua
Paas wali gali mein kahin gir gaya!
Aur main dhoop mein
Jhoolti charpai par leta hua
Alagni par latakti
Phati paint ki khali jaibon ko takta raha!
Paint ki khali jaibon se pani tapakta raha!
Dhoop ka zehar
Pairon se hota hua
Dil ki jaanib lapakta raha!
Cheel ka saaya
Saare badan mein bhatakta raha!!
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں