بھاری جسموں کو اگلتا اک جہاز
گیند کے مانند پاس آتی زمیں
ایک کے بعد ایک کھلتی چھتریاں
اک پہاڑی سے اترتی بکریاں
تیز زہریلی ہوا چلتی ہوئی
ایک بستی آگ میں جلتی ہوئی
سوچتا ہوں لوٹ ہی جاؤں مگر
گر رہا ہوں لوٹ کے جاؤں کدھر
محمد علوی
Bhaari jismon ko ugalta ek jahaaz
Gend ke maanind paas aati zameen
Ek ke baad ek khulti chhatriyan
Ek pahaadi se utarti bakriyan
Tez zehrili hawa chalti hui
Ek basti aag mein jalti hui
Sochta hoon laut hi jaaun magar
Gir raha hoon laut ke jaaun kidhar
محمد علوی جدید اردو شاعری کے اُن ممتاز اور منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی سادہ مگر معنی خیز شاعری کے ذریعے اردو ادب میں ایک الگ مقام حاصل کیا۔ ان کی پیدائش 10 جولائی 1927ء کو احمد آباد میں ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ...
مکمل تعارف پڑھیں